اشاعتیں

قابضین اقتدار

 ہمارے سامنے روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ زور زبردستی سے جعلی اقتدار ترتیب دیئے جاتے ہیں جیساکہ پچھلے ایک ماہ سے ہم سہنے پر مجبور ہیں یا مال و زر خرچ کرکے ہمیں جعلی زبردستی کے آمروں کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ اگر ماضی میں کے جھروکوں میں جھانکہ جائے تو کبھی بھی فرق نظر نہیں آئے گا۔ ن لیگ ہو یا زرداری لیگ دونوں دکانوں کے مالکان کا رویہ یکساں ہی دیکھائی دے گا۔ سارا ملبہ سابقہ حکومت پر ڈال کر خود بری الزمہ ہو جاؤ۔ عوام سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ آپ نے بڑے بڑے دعوے کیے تھے وہ کیا ہوئے ؟ ساری خرابیاں سابقہ حکومت میں تھیں اور ان تمام خرابیوں کو لمحہ بھر میں ٹھیک کرنے کی زمہ داری سینہ ٹھوک کر آپ اٹھانے کو تیار تھے تو پھر آج معملات ٹھیک کرنے کے بجائے آپ کی ہر بات سابقہ حکومت کی برائیوں سے شروع ہوتی ہے اور برائیوں پر ختم ہوتی ہے اور جن معملات کو ٹھیک کرنے کی آپ زمہ لے رہے تھے ان میں مزید بگاڑ پیدا ہو گیا۔ ن لیگ اور زرداری لیگ کے بیانات دیکھے جائیں اور ان کا بغور تجزیہ کیا جائے تو بات واضح ہو جاتی ہے کہ صرف اور صرف اپنی ذات و نسل کی پرورش کے لیے اقتدار کی ضرورت ہے اس کے علاؤہ کچھ نہیں۔ آپ کی ...

سازشی عناصر

 سازشی عناصر کی سرگرمیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ (تحریر: مسعود حسین جعفری) اندرونی بیرونی سازشوں میں گھرا عرض پاک اور اس میں بسنے والے عجیب مخمصے اور عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ ایک طویل مدت تک اقتدار میں رہنے والے آج بھی اسی جگہ کھڑے نظر آتے ہیں جہاں ان کی پیدائش واقع ہوئ تھی سرمو ذرا سا فرق جسے تعلیم تہذیب نظریہ سوچ دور دور تک نظر نہیں آتا کاش ان میں کردار کی بلندی ہوتی کاش سوچ و نظریات مال و زر اختیارات سے اوپر ہوتے کاش اس فلاحی ریاست کو بنانے کے لیے اعلیٰ ذہانت ہوتی مگر ہر پاکستانی کا احساس محرومی کئ گنا بڑھ جاتا ہے جب وہ ایسے افراد اور ان کے گروہ کو دیکھتا ہے جو کئ نسلوں سے اقتدار میں رہے ہیں اور آج بھی اسی سطحی نظریات و سوچ کے ساتھ جو مدتوں سے ان کے ذہنوں کو پراگندہ کر کے رکھے ہوئے ہیں اور اقتدار کی ہوس جو رگوں میں خون کی مانند رواں دواں ہے فطرت ثانیہ میں شامل ہوچکی ہے جس سے چھٹکارا صرف مالک حقیقی کے پاس جا کر ہی نصیب ہوتا ہے۔ جھوٹ پر سیاست قائم ہے ہر سیاست دان اور اس کا گروہ کسی نہ کسی سازش کے تانے بانے بنے میں لگا ہوا ہے بالخصوص ایسے سیاستدان جو ملوکیت و حاکمیت کے قائل ہیں ایسے افراد ک...

Education in Sindh

E ducational activities in Sindh province have been suspended for the last 14 years.  The Sindh government destroys the education system every time by appointing an incompetent person as the Minister of Education.  Educational activities in Sindh province have been suspended for the last 14 years. The Sindh government destroys the education system every time by appointing an incompetent person as the Minister of Education. Following the collapse of public and affordable education, the education sector is now dominated by businessmen who are selling formal education. Private education vendors active in looting in the suburbs. The in competence of the director private education Sind and the Sind education minister left the system in disarray. The condition of school in Sind is very bad, private school have been set up in dilapidated buildings especially in the suburbs, where even basic facilities are not available to students or children. Parents have lodge written complaints an...

ہوئے مر کے ہم جو رسواء

 کراچی (تحریر: مسعود حسین جعفری) ہوئے مر کے ہم جو رسواء قوم کی آزمائش کا وقت کیا ہوتا ہے یا ہوسکتا ہے اسکا تعین نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی عہدِ حاضر میں ایسی کوئی گھڑی تیار کی گئی ہے مگر زبان اور کاغذات سے بہت کچھ کہہ کر پرانے خوابوں اور باتوں پر نیا رنگ وروغن چڑھانے کی کوشش ضرور کی جاتی ہے کہ ماضی کی طرح خوشنماں معلوم ہو ۔مصورانِ خوش خیال اگر چہ خاموش طبع ہیں مگر روغنیات سے واقفیت رکھتے ہیں بہرکیف اندورنِ خانہ کتنی ہی چپقلش ومنافقت کیوں نہ ہو مگر بیرونی سطح پر مطلع شفاف رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ سابقین کے کئیے دھرے پر دانتوں کی نمائش اور موجودہ کے کارہائے نمایاں پر گل پاشی عہدِ گذشتہ کی زینت بڑھانے کے لئے بہت ہے اگر بات کا آغاز تبدیلی سے ہوا تھا تو تبدیلی کو واضع کرتے ہوئے سابقین کی عادات وفطرات سے کنارہ کشی اختیار کی جانی چاہئے لیکن یہ نہ تو ممکنات میں شامل ہے اور نہ ہی ایسی کو ئی ترجیحات زیرِ غور لانے کا تصور۔ موجودہ صورتحال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے باخوبی سمجھا جاسکتا ہے کہ معاملات کس نہج پر پہنچ چکے ہیں ۔لیکن اس سے پہلے تاریخ کے جھرنکوں سے کچھ ایسی ہوائیں چہرے کو بگاڑ رہی ہیں جس ...

Old

  سیران اقتدار ۔۔۔۔۔ ملک وقوم کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان ایک ایسی فلاحی ریاست ہے جو صرف اور صرف دین اسلام کے نام پر حاصل کی گئ مگر یہاں دین اسلام کا نفاذ قائم نہ ہو سکا صرف چند افراد گروہ یا ادارے ہی حتی الامکان عمل کرنے کی جستجو میں رہتے ہیں لیکن اکثریت اس سے انحراف کرتی دیکھائی دیتی ہے۔ منافقت کی عمدہ مثال تو یہ ہے کہ تبلیغ اور دعوع انتہائ روز و شور سے کئے جاتے ہیں لیکن جب عمل کی باری آتی ہے تو کئ میلون دور تک سوائے بدنامی رسوائی کے کچھ بھی واضح نہیں ہوتا بلکہ ضد ھڈدھرمی کی مثالیں قائم کی جاتی ہیں جس کا مظاہرہ آئے روز ہم دیکھتے ہی رہتے ہیں۔ اگر سیاسی جماعتوں کی بات کی جائے تو کف افسوس ملنے کے کچھ سجائ نہیں دیتا۔ جھوٹ عیاری مکاری کرپشن سودے بازی تباہی مفادپرستی یہ وہ عوامل ہیں جس سے سیاست پروان چڑھائی جاتی ہے۔ دوسری جانب ملوکیت کو سیاست میں لازم و ملزوم قرار دیتے ہوئے اسے ایک گھریلو دائرے میں قید کردیا گیا ہے۔ احمقانہ اجتماع روز ہائے گزشتہ جو کچھ بھی سننے کو ملا اس میں صرف اور صرف ایک ہی بات واضح نظر آتی ہے کہ کچھ مالکان جو کہ ملوکیت کو نصب العین بنائے بی...

داغدار ماضی

خاندانی قبضہ مافیا کا اتفاق و اتحاد اپنے پیروں پر کلہاڑی مارنے کے اثرات سامنے آ چکے ہیں سابقہ حکومت پر جو تنقید کی جارہی تھی آج وہی کار ہائے نمایاں انجام دینے پر مجبور و لاچار زبردستی کے حکمراں دلائل دینے کے لیے رات دن ایک کررہے ہیں۔ راقم الحروف پہلے بھی اس غیر فطری ملوکی اتحاد پر بہت کچھ احاطہ تحریر میں لا چکا ہے جو کچھ روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ اس غیر فطری اتحاد میں جس بات پر اتفاق ہے وہ کرپشن اختیار و اقتدار اپنی نسل کے لیے مخصوص کرنا ہے اور ایسے قراردادیں و قوانین وجود میں لانا ہے جس کی بدولت اپنے خاندان برادری و نسل کو ہر طرح کا تحفظ حاصل ہوسکے۔ اس گھمبیر صورتحال میں نااہل نالائق غیر قانونی اور کے پالک زبردستی کے افراد کسی صورت قابو پانے کی اہلیت نہیں رکھتے اس کی وجہ ان کا داغدار ماضی ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہ تو ملک میں کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی بیرونی دنیا میں کہ ایک طویل مدت تم اقتدار میں رہنے والے صرف اپنی ذات پر توجہ دیتے رہے اور دنیا کی آسائشوں کے حصول کی خاطر ملک و قوم کو لوٹتے رہے بلکہ ظلم بھی ڈھاتے رہے۔ اسے ایک نہ بھلائے جانے والا سانحہ ظلم یا بڑا حادثہ ہی تسلیم کیا جا سکتا ہ...

Bill Gates Note

 Bill Gates Note 24 May  Earlier this year, I made my first trip ever to Pakistan to learn more about the country’s incredible efforts to wipe out polio. Their energy and enthusiasm reminded me of what I saw in India and Nigeria when those countries were traveling the final mile to eliminate polio within their borders. But the last mile is often the toughest. In recent weeks, the world received a sobering reminder of this fact when three new cases of wild poliovirus were detected in Pakistan. Even with the new polio cases, the virus is still circulating at extremely low levels and the world has an historic opportunity to make sure this virus never paralyzes a child again. The fact is, we’ve never been closer to ending polio and it’s critical that the world doesn’t lose sight of this goal. You can learn more about Pakistan’s progress against polio in my  new Gates Notes post  and  video . Thanks so much for being an Insider!