سفاکانہ ملکیت
سندھ کی بارہ برس کی سفکانہ آمریت کا ایک اور ملوکیت سے بھرپور وار۔ کراچی(مسعود حسین جعفری) صوبہ سندھ پر بارہ برس سے قابض ملوکیت بھرپور انداز سے انتہائ سفاکانہ وار کرنے میں مصروف ہے۔ جس کا مظاہرہ آج ملوکیت کے اجتماع کے دوران گھر بیٹھے زبردستی کے بنائے جانے والے نام نہاد رہبر کی رونمائی بھی ہے۔ پاکستانی قوم اس نام نہاد اور زبردستی کی ملوکیت سے ایک مدت سے نمبرد آزما رہی ہے مگر اس ملوکیت کی جڑیں شاید بہت زیادہ مضبوط ہیں جس کی روک تھام ممکن نہیں اور نہ ہی جمہوریت کو پنپنے دیا گیا کہ کسی طرح اس ملوکیت کا خاتمہ کیا جا سکے۔ قوم سابقہ ملوکیت گھریلو سیاست کے بیچ سے ہی بیزار تھی کہ اس گھریلو ملوکیت کو مزید فروغ دینے کے لئے زبردستی کا بوجھ مزید بڑھادیا گیا۔ جمہوریت کا قتل عام بالکل اس طرح کیا جاتا رہا جیسے پاکستان بھی کسی عرب ریاست کی بادشاہت کا حصہ ہو۔ اس ملوکی گروہ میں شاید قابلیت کا فقدان ہوتا ہے۔ گھر کی کسی بھی عورت مرد کو زبردستی عوام کی چھاتی پر مونگ دلنے کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے قومی خزانے پر الگ بوجھ پڑتا ہے۔ عوام کی بے بسی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ لوگ محض دیہاڑی لگانے کی ...