اقتدار کی ہوس میں
اسیران اقتدار ۔۔۔۔۔ ملک وقوم کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان ایک ایسی فلاحی ریاست ہے جو صرف اور صرف دین اسلام کے نام پر حاصل کی گئ مگر یہاں دین اسلام کا نفاذ قائم نہ ہو سکا صرف چند افراد گروہ یا ادارے ہی حتی الامکان عمل کرنے کی جستجو میں رہتے ہیں لیکن اکثریت اس سے انحراف کرتی دیکھائی دیتی ہے۔ منافقت کی عمدہ مثال تو یہ ہے کہ تبلیغ اور دعوع انتہائ روز و شور سے کئے جاتے ہیں لیکن جب عمل کی باری آتی ہے تو کئ میلون دور تک سوائے بدنامی رسوائی کے کچھ بھی واضح نہیں ہوتا بلکہ ضد ھڈدھرمی کی مثالیں قائم کی جاتی ہیں جس کا مظاہرہ آئے روز ہم دیکھتے ہی رہتے ہیں۔ اگر سیاسی جماعتوں کی بات کی جائے تو کف افسوس ملنے کے کچھ سجائ نہیں دیتا۔ جھوٹ عیاری مکاری کرپشن سودے بازی تباہی مفادپرستی یہ وہ عوامل ہیں جس سے سیاست پروان چڑھائی جاتی ہے۔ دوسری جانب ملوکیت کو سیاست میں لازم و ملزوم قرار دیتے ہوئے اسے ایک گھریلو دائرے میں قید کردیا گیا ہے۔ احمقانہ اجتماع روز ہائے گزشتہ جو کچھ بھی سننے کو ملا اس میں صرف اور صرف ایک ہی بات واضح نظر آتی ہے کہ کچھ مالکان جو کہ ملوکیت کو نصب العین بنائے بیٹھے ہیں آپس میں ملک وقوم کی تقسیم چاہتے ہیں اور ہر حال میں اقتدار کا حصول اور بس۔ کچھ کھایا ہوا مال واپس نہ کرنے کی یقین دھانی کے ساتھ ساتھ مزید کی آرزو لگائے بیٹھے ہیں جیسا کہ ہم نے تو کھا لیا اب ہماری اولاد کی باری ہے اسے بھی کھل کر موقع ملنا چاہئے جو تربیت کا خاصا ہے۔ موجودہ حکومت ملوکیت کے خاتمہ کے لئے کیا کررہی ہے راقم الحروف کو اس کا علم نہیں مگر اس ملوکیت کے خاتمہ کے لئے بھرپور کوشش جاری رہے گی۔ انتہائی مہلک اور خطرناک بیماریوں میں مبتلاء افراد نے پاک افواج پر الزامات لگائے جو صرف پاک افواج کی بے عزتی نہیں بلکہ پاکستانی قوم کی عزت کا جنازہ نکالا گیا۔ ملک میں ویسے ہی انتشار کی فضاء قائم ہے جس میں بیرونی سازشیں نظرانداز نہیں کی جاسکتیں اور پھر ایسے افراد کا یکجا ہونا جن پر بے انتہا الزامات ہی نہیں بلکہ قوم بھی خود گواہی دینے کے لئے تیار بیٹھی ہے کہ ایک طویل مدت تک ملک وقوم کا لہو نچوڑنے والے اور مزید کیا چاہتے ہیں۔ چند زرخرید افراد کو اپنے گرد جمع کر کے قوم کو ورغلا کر فرار ہونے والے جنہوں نے کبھی قوم کے مفاد کا سوچنا گناہ سمجھا وہ یکجا ہونے کی کوششوں میں مصروف ہیں اس سے بڑھ کر عرض پاک اور قوم سے بھیانک مذاق کیا ہوسکتا ہے۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ان میں سے کوئ اس قابل ہے ہی نہیں کہ اسے امور سلطنت میں معمولی سا بھی حصہ دار بنایا جائے اور نہ ہی ان کی اولادوں میں سے کوئ اس قابل ہے کہ اسے رہنماں کہا یا سمجھا جائے۔پیسے کے بل بوتے پر کبھی کوئ رہنماں نہیں بنتا اور جو بننے کی کوشش کرتا ہے تو وہ اپنی چال بھی بھولا بیٹھتا ہے۔ اور یہی سب کچھ ہورہا بھی رہا ہے۔ گھریلو پارٹی بنالی اور پھر گھر کے ہر فرد کو زبردستی قوم کے سروں پر سوار کردیا پھر جدی پشتی یہی سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ اسے کہتے ہیں گھٹیا ترین سیاست۔ قوم کی سمجھ میں اب آجانا چاہئے کہ جو گروہ اپنے محافظوں کی عزت نہیں کرسکتا وہ اس قابل نہیں کہ کوئ اس پر اعتبار کرے اور جو لوگ اس نئے بننے والے گروہ کے کسی شخص پر اعتبار کر کے اس کی بات مانتے ہیں تو انہیں بھی نہ تو اس ملک میں رہنے کا حق ہے اور نہ ہی قوم کو اس فرد سے کو تعلق رکھنے کی ضرورت ہے۔ بات بالکل واضح ہے۔
تحریر: مسعود حسین جعفری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں