بابائے قوم سے اتنی نفرت کیوں؟؟

 پیپلزپارٹی کا سندھ کے ساتھ کھلا تعصب۔

کیوں ؟؟؟؟؟


(تجزیہ:مسعود حسین جعفری) ملوکیت کی پیداوار گھریلو جماعتیں اس ملک وقوم کے لئے ہمشیہ ہی ذلت ورسوائی کا سبب بنتی آرہی ہیں۔ اور رہی بات (ن)لیگ اور پیپلزپارٹی کی تو اس سے بدتر ملوکیت شاید دنیا میں کہیں نہ ہوگی۔ مسلسل ڈکٹیٹر شپ جس کا دورانیہ ایک طویل سیاہ شب پر محیط ہے جس کا سلسلہ ختم ہونے میں نہیں آرہا اور نہ ہی کسی قسم کی قانون سازی کی جارہی ہے جس کی وجہ سے اس سلسلہ کو ہمیشہ کے لئے دفن کردیا جائے۔

بابائے قوم کے مزار میں جو بے ہودگی بدتمیزی اور اخلاق سوز حرکت ہوئ اس پر ساری قوم ہی شرم افسوس اور صدمے کی حالت میں ہے۔ زیادہ افسوس پیپلزپارٹی کی بے حسی پر ہوتا ہے جو ملزمان کی حمایت کررہی ہے اسے نہ تو کوئ غم ہے اس مذموم حرکت کا اور نہ ہی کوئ دلچسپی۔ اگر دلچسپی ہوتی تو ملزمان کو اس خلاق سوز جرم کی سزا کی جستجو کی جاتی ذرا ذرا سے معاملات پر احتجاج کرنے والے مزار قائد کی بے حرمتی پر اطمینان سے خاموش مزے لیتے رہے۔ اس گھٹیا سیاست کے پیچھے کیا عزائم ہیں وہ بھی کھل کر سامنے آچکے ہیں۔ کراچی میں تصویری نمائش میں پیپلزپارٹی کے نمک خوار نے بےنظیر کی ایک تصویر باتھ روم میں رکھ دی اس پر اتنا واویلا مچایا گیا کہ ایک فساد کا ماحول بن گیا اور گناہ کبیرہ کی پاداش میں کئ کارکنوں کو معطل کردیا گیا خاص طور پر ایک ایسے شخص کو معطل کیا گیا جو صدر کے عہدے پر فائض تھا۔ یہاں تعصب کی بدبو پورے شہر میں پھیل گئ کہ بابائے قوم کے مزار کا تقدس اگر پامال کیا جائے تو اس سے کوئ فرق نہیں پڑتا لیکن اگر اپنی گھریلو جماعت کے مالکان کی تصویر کو باتھ روم کی زینت بنایا جائے تو وہ ناقابلِ معافی جرم بن گیا۔

صرف یہی نہیں ایسے متعدد واقعات و سانحات ہیں جس کی بدولت پاکستان سے نفرت کھل کر سامنے آچکی ہے۔ اب ہائر اتھارٹی کے لئے یہ ایک چیلنج ہے کہ وہ اس ملک اس صوبے اور اس شہر سے اس تعصب کا خاتمہ کس طرح کرتے ہیں۔ جو بظاہر ناممکن نظر آتا ہے لیکن اگر مشکل سخت اور سچائ پر مبنی فیصلے کئے گئے تو قوی امید ہے کہ مشکلات میں اضافہ تو ہوگا مگر سرخ روہی بھی نصیب ہوگی۔

موجودہ صورتحال میں پیپلزپارٹی ایک مجرم کی حیثیت میں سامنے آئی ہے جسے کسی صورت معاف نہیں کیا جاسکتا۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

داغدار ماضی

ہوئے مر کے ہم جو رسواء

Education in Sindh