قابضین اقتدار
ہمارے سامنے روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ زور زبردستی سے جعلی اقتدار ترتیب دیئے جاتے ہیں جیساکہ پچھلے ایک ماہ سے ہم سہنے پر مجبور ہیں یا مال و زر خرچ کرکے ہمیں جعلی زبردستی کے آمروں کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
اگر ماضی میں کے جھروکوں میں جھانکہ جائے تو کبھی بھی فرق نظر نہیں آئے گا۔ ن لیگ ہو یا زرداری لیگ دونوں دکانوں کے مالکان کا رویہ یکساں ہی دیکھائی دے گا۔
سارا ملبہ سابقہ حکومت پر ڈال کر خود بری الزمہ ہو جاؤ۔ عوام سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ آپ نے بڑے بڑے دعوے کیے تھے وہ کیا ہوئے ؟ ساری خرابیاں سابقہ حکومت میں تھیں اور ان تمام خرابیوں کو لمحہ بھر میں ٹھیک کرنے کی زمہ داری سینہ ٹھوک کر آپ اٹھانے کو تیار تھے تو پھر آج معملات ٹھیک کرنے کے بجائے آپ کی ہر بات سابقہ حکومت کی برائیوں سے شروع ہوتی ہے اور برائیوں پر ختم ہوتی ہے اور جن معملات کو ٹھیک کرنے کی آپ زمہ لے رہے تھے ان میں مزید بگاڑ پیدا ہو گیا۔ ن لیگ اور زرداری لیگ کے بیانات دیکھے جائیں اور ان کا بغور تجزیہ کیا جائے تو بات واضح ہو جاتی ہے کہ صرف اور صرف اپنی ذات و نسل کی پرورش کے لیے اقتدار کی ضرورت ہے اس کے علاؤہ کچھ نہیں۔
آپ کی بات مان لی گئ کہ سابقہ حکومت میں کسی بھی قسم کی قابلیت نہیں تھی وہ سب کے سب ناتجربہ کار تھے لیکن آپ تو قابل بھی ہیں اور تجربہ کار بھی آگے کی کوئ سوچ آپ کے پاس بھی نہیں سوائے اس کے کہ اپنی ذات پر بدعنوانیوں کے مقدمات ختم کرائیں جائیں عدلیہ سمیت تمام ادارے اپنی ذات کے تابع فرمان کیے جائیں مخالفین پر بدترین الزامات عائد کرکے جیل بھیجوا دیا جائے یا کسی عابد باکسر اور گلو بٹ کے ذریعے قتل کردیا جائے ریکارڈ جلا دیے جائیں اور کرپشن پر تمام ادارے آنکھ ناک کان بند رکھیں۔
جب اس طرح کا منشور ہوگا تو امور سلطنت کے جائے ذاتی امور خانہ کے علاؤہ بھلا کیا چلایا جاسکتا ہے۔ عوامی ردعمل سامنے ہے عوام نے جعلی حکومت قرار دے دیا ہے جس کا پر چار ملک کے کونے کونے کے علاؤہ دنیا کے تقریباً تمام ممالک میں ریکارڈ کیا جارہاہے بالخصوص لندن والی رہائش گاہ کے سامنے یومیہ بنیادوں پر احتجاج ریکارڈ ہورہا ہے۔
ن لیگ اور زرداری لیگ کا آمرانہ طرز عمل ہمیشہ ملک و قوم کے خلاف ہی رہا اس کی مثالیں ان کے اقتدار کی طویل مدت سے بھی دستیاب ہیں۔ اب جبکہ اندرون و بیرون ممالک میں ن لیگ کی حکومت کو جعلی اور امپورٹڈ حکومت قرار دے دیا گیا ہے اس تاریخی ذلت کے بعد بھی اقتدار سے چمٹا رہنا بدنیتی کی علامت تصور کیا جارہا ہے یہی حال سندھ کا بھی ہے جس میں زرداری لیگ کی آمریت قابض ہے اور وہ بھی ایک طویل مدت سے ۔ اور اس طویل مدت میں پانی کے علاؤہ جو کچھ حکومت سندھ کے اختیار میں ہے اس سب سے عوام ایک طویل مدت سے محروم ہیں ۔
کیونکہ ان کے اندر ایک بھیانک آمریت زندہ ہے اس لیے پاکستان میں بسنے والی دیگر اقوام کی انہوں نے ہمیشہ حق تلفی کی نہ صرف حق تلفی کی بلکہ حقوقِ غضب بھی کیے دیگر اقوام کو گری ہوئ نظر سے دیکھا انہیں اپنا جدی پشتی غلام بنا کر رکھا گیا اپنے آمرانہ فیصلوں کی بدولت دباؤ میں رکھا گیا۔ یہی برتاؤ اور اور آمرانہ طرز عمل انہیں لے ڈوبا اور دنیا میں ذلت کا باعث بھی بنا۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں