سیاست سے نابلد خاندان

 ہمارے سامنے سیاسی تواریخ کا ایک انبار دھرا ہے جس کی بدولت ہم سیاسی جماعتوں کی کارستانیاں کہیں کھلے الفاظ میں پڑھتے ہیں تو کہیں مبہم تحریر میں لیکن تمام تر تباہیاں گھٹیا ذاتی مفادات اور خاندانی آمریت کے گرد گھومتی نظر آتی ہیں جس کے عقب میں کوئ نظریہ جو ملک و ملت کے مفادات کی عکاسی کرتا ہو دیکھائی نہیں پڑتا اس کی خاص وجہ جو تحقیق کے بعد سامنے آتی ہے وہ خاندانی ملوکیت ہے جسے ہم ایک ایسی آمریت یا بادشاہت بھی کہہ سکتے ہیں جو ایک ہی خاندان کا طواف کرتی ہیں تمام تر قابلیت صلاحیت طاقت اور رعایت کا مرکز ایک ہی خاندان ہوتا ہے۔ اس طرح کی آمریت سے تاریخ بھری پڑی ہےاور اس کے مضر اثرات یعنی اپنی ذات کو مستحکم بنانے کے لیے عوامی خون سے حاصل کردہ آسائشیں اپنے خاندان کے لیے سہولیات کا حصول ہمیشہ مقدم رکھا گیا۔

موجودہ صورتحال میں جو کچھ تباہی نظر آرہی ہے وہ آج کی پیدا کردہ نہیں ہے یہ چند خاندانوں کی ملی بھگت کی وجہ سے پیدا ہوئ ۔کہاں کہاں کیا کیا کہا گیا وہ سب منافقت کی کھلی عکاسی کرتا ہے اس بربادی میں ایسے گروہ کا بھی ساتھ رہا جو راز دار بن گئے مجبوراً بہتی گنگا میں ان چھوٹے گروہوں کو بھی کم از کم ہاتھ پاؤں دھونے کا موقع ضرور دیا گیا تاکہ ان چھوٹے گروہوں کی آڑ میں خود بآسانی غسل کیا جا سکے۔

ایک مفلوک الحال مفکر الفت جہنمی کا کہنا ہے کہ بڑی عجیب شے ہے یہ شرافت بھی۔۔۔۔ جس میں شر بھی ہے اور آفت بھی۔

اس لیے جب سب ہی شریف ہو جائیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ شرافت کے دو عدد ٹکڑے ہو چکے ہیں۔ اقتدار کے لیے تڑپنے والے جب اقتدار کی مسند اعلیٰ تک پہنچے تو اندازہ ہوا کہ صرف قوم ہی نہیں بلکہ بیرونی دنیا بھی تماشائی ہے اور ذلیل کرنے کے مختلف بہانوں کے انتظار میں ہے ہمیں یقین ہے کہ اب اس خاندانی آمروں کو بھی یہ حقیقت بہ سر و چشم تسلیم کر لینی چاہیے مگر افسوسناک پہلو یہ ہے کہ خاندانی ملوکیت کا ہمیشہ سے یہ ایمان رہا ہے کہ عزت تو آنی جانی چیز ہے جب دولت کسی بھی طرح سے آتی ہے تو سلام کرنے والے خود ہی آجاتے ہیں اس نظریہ کی بڑی بڑی مثالیں پورے ملک میں رواں دواں ہیں۔

طالب دعا

مسعود حسین جعفری

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

داغدار ماضی

ہوئے مر کے ہم جو رسواء

Education in Sindh