وہی پرانے ڈائیلاگ
کراچی (تحریر: مسعود حسین جعفری)
وہی پرانے گھسے پٹے ڈائیلاگ
بزرگوں نے نصیحت آمیز انداز اختیار کرتے ہوئے ہمیشہ ایک خصوصی نصیحت فرمائی کہ آسمان کی جانب تھوکنے سے اپنے ہی چہرے پر تھوک گرتا ہے پہلے پہل یہ نصیحتیں سمجھ نہیں آتی تھیں کہ بھلا کسی کو کیا ضرورت پڑی ہے کہ آسمان کی جانب منہ کرکے تھوکے لیکن گزشتہ ایک ماہ سے اس نصیحت کا مفہوم سمجھ آنے لگا۔
عرض پاک کے سلسلہ میں جو اوٹ پٹانگ قسم کے بیانات تقاریر اور دعوے ہم سنتے اور دیکھتے آئے بلکہ یوں کہیں کہ جب بھی کسی خاندانی آمر نے جوڑ توڑ کر کے اقتدار حاصل کیا تو اس کے بات ہر بگاڑ اور تباہی بربادی کا زمہ دار سابقہ سیاسی آمر کو ٹھہرایا۔ ہم زیادہ دور نہیں جاتے ہیں اور 2008 کی ڈیل جوڑ توڑ سے اقتدار حاصل کرنے والے سیاسی آمروں سے ہی آغاز کریں تو سارے رٹے رٹائے ڈائیلاگ سامنے آجائیں گے جس کا تذکرہ گزشتہ ایک ماہ سے تادم تحریر مسلسل کیا جارہا ہے۔
اب حسب ضابطہ حسب روایت اور حسب خاندانی آمرانہ منصوبہ بندی مسلسل سابقین کی غلطیوں کو دھرا کر عوام کے سامنے لایا جارہا ہے تو یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سابقین کی غلطیوں کا پرچار کر کے موجودہ زبردستی کے سیاسی آمر کون سا بھلا کر رہے ہیں۔ اب اگر سوال کیا جائے تو وہی گھسے پٹے ڈائیلاگ کہ چار برس میں اتنا بگاڑ پیدا کیا گیا ہے کہ اسے ہم سنبھال یا ٹھیک نہیں کرسکتے۔ تو پھر آپ بھی نا اہل ، نالائق، ٹھہرے اور جو مدتوں سے بڑی بڑی بتائیں کی جارہی تھیں وہ سب صرف حصول اقتدار کے لیے تھیں تاکہ جرائم کی پردہ پوشی اور وزارتوں کی بندر بانٹ بآسانی کی جا سکے۔
اگر اسے ہی حکومت کرنا کہتے ہیں تو اس ملک و قوم کو آپ جیسے سیاسی آمروں کی ضرورت نہ پہلے کبھی تھی اور نہ آج ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں