باطل قوتوں کے خلاف جنگ آزادی کا اغاز۔
باطل قوتوں کے خلاف جنگ آزادی کا اغاز۔
کراچی (تحریر: مسعود حسین جعفری)
گزشتہ پچاس برس سے عرض پاک اغیار کے زیر اثر رہا اور جمہوریت کے نام پر ملوکیت و خاندانی آمریت کو سیاست کا نام دیتے ہوئے سجدہ ریز ہونے والے خاندانوں کو اقتدار عطا کر کے ان چند خاندانوں کی بلا شرکت غیرے عبادت کا بھی بھر پور صلا عطا کیا گیا جس کی بنا پر ان چند خاندانوں اور ان کی نسلوں کے لیے اقتدار کے دروازے بلا کسی روک ٹوک ہمیشہ کے لیے کھول دیے گئے۔
کئ دہائیوں سے دیکھتے آرہے ہیں کہ سیاسی خاندانوں کی آمریت کے دوران ملک تباہی کے دھانے پر رہا اور ہمیشہ خطرات میں گھرا رہا مگر سیاسی آمروں کے کان پر جوں تک نہ رینگی صرف زبانی کلامی معملات حل ہوتے رہے ان سیاسی آمروں کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ کوئ طاقت ان کو بھی چیلنج کرنے کی جرات کر سکتی ہے اور وہ بھی عرض پاک کی مظلوم قوم جس کو یہ سیاسی آمر ہمیشہ کچلتے آئے ہیں۔
سیاسی خاندانوں کی آمریت کا سارا کا سارا ظلم وزیادتی و جبر اسی قوم پر رہا جو ان کو اور ان کی نسلوں کو پالنے میں ہمہ وقت خون پسینہ ایک کرتے رہے اور یہ عیاشیاں کرنے میں لگے رہے یا قوم کی خون پسینے کی کمائی کو بیرون ملک منتقل کرتے رہے جس کی وجہ سے قوم قرضے میں ڈوبتی چلی گئ۔
آج جب ان کے مظالم کے خلاف آوازیں بلند ہونا شروع ہوگئی ہیں اور باقاعدہ عوام کسی سیاسی جماعت کے ایجنڈے پر عمل کرنے کے بجائے اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر ہیں تو سیاسی آمروں کی نیندیں حرام ہوچکی ہیں اپنی طاقت کے بل بوتے پر عوام پر مظالم ڈھا کر محکوم بنانے پر زور صرف کیا جارہا ہے بیرونی طاقتوں کو مدد کے لیے پکارا جارہا ہے۔
آج عرض پاک اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کی کوششوں میں ہے تو اغیار کے لے پالک سیاسی آمر اور ان کے سہولت کار راستے میں رکاوٹیں کھڑی کررہے ہیں۔ لیکن اس بار قوم میں آزادی کا جذبہ جاگ چکا ہے اور قوم کسی صورت ان سیاسی آمروں کو برادشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں