اشاعتیں

قابضین اقتدار

 ہمارے سامنے روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ زور زبردستی سے جعلی اقتدار ترتیب دیئے جاتے ہیں جیساکہ پچھلے ایک ماہ سے ہم سہنے پر مجبور ہیں یا مال و زر خرچ کرکے ہمیں جعلی زبردستی کے آمروں کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ اگر ماضی میں کے جھروکوں میں جھانکہ جائے تو کبھی بھی فرق نظر نہیں آئے گا۔ ن لیگ ہو یا زرداری لیگ دونوں دکانوں کے مالکان کا رویہ یکساں ہی دیکھائی دے گا۔ سارا ملبہ سابقہ حکومت پر ڈال کر خود بری الزمہ ہو جاؤ۔ عوام سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ آپ نے بڑے بڑے دعوے کیے تھے وہ کیا ہوئے ؟ ساری خرابیاں سابقہ حکومت میں تھیں اور ان تمام خرابیوں کو لمحہ بھر میں ٹھیک کرنے کی زمہ داری سینہ ٹھوک کر آپ اٹھانے کو تیار تھے تو پھر آج معملات ٹھیک کرنے کے بجائے آپ کی ہر بات سابقہ حکومت کی برائیوں سے شروع ہوتی ہے اور برائیوں پر ختم ہوتی ہے اور جن معملات کو ٹھیک کرنے کی آپ زمہ لے رہے تھے ان میں مزید بگاڑ پیدا ہو گیا۔ ن لیگ اور زرداری لیگ کے بیانات دیکھے جائیں اور ان کا بغور تجزیہ کیا جائے تو بات واضح ہو جاتی ہے کہ صرف اور صرف اپنی ذات و نسل کی پرورش کے لیے اقتدار کی ضرورت ہے اس کے علاؤہ کچھ نہیں۔ آپ کی ...

سازشی عناصر

 سازشی عناصر کی سرگرمیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ (تحریر: مسعود حسین جعفری) اندرونی بیرونی سازشوں میں گھرا عرض پاک اور اس میں بسنے والے عجیب مخمصے اور عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ ایک طویل مدت تک اقتدار میں رہنے والے آج بھی اسی جگہ کھڑے نظر آتے ہیں جہاں ان کی پیدائش واقع ہوئ تھی سرمو ذرا سا فرق جسے تعلیم تہذیب نظریہ سوچ دور دور تک نظر نہیں آتا کاش ان میں کردار کی بلندی ہوتی کاش سوچ و نظریات مال و زر اختیارات سے اوپر ہوتے کاش اس فلاحی ریاست کو بنانے کے لیے اعلیٰ ذہانت ہوتی مگر ہر پاکستانی کا احساس محرومی کئ گنا بڑھ جاتا ہے جب وہ ایسے افراد اور ان کے گروہ کو دیکھتا ہے جو کئ نسلوں سے اقتدار میں رہے ہیں اور آج بھی اسی سطحی نظریات و سوچ کے ساتھ جو مدتوں سے ان کے ذہنوں کو پراگندہ کر کے رکھے ہوئے ہیں اور اقتدار کی ہوس جو رگوں میں خون کی مانند رواں دواں ہے فطرت ثانیہ میں شامل ہوچکی ہے جس سے چھٹکارا صرف مالک حقیقی کے پاس جا کر ہی نصیب ہوتا ہے۔ جھوٹ پر سیاست قائم ہے ہر سیاست دان اور اس کا گروہ کسی نہ کسی سازش کے تانے بانے بنے میں لگا ہوا ہے بالخصوص ایسے سیاستدان جو ملوکیت و حاکمیت کے قائل ہیں ایسے افراد ک...

Education in Sindh

E ducational activities in Sindh province have been suspended for the last 14 years.  The Sindh government destroys the education system every time by appointing an incompetent person as the Minister of Education.  Educational activities in Sindh province have been suspended for the last 14 years. The Sindh government destroys the education system every time by appointing an incompetent person as the Minister of Education. Following the collapse of public and affordable education, the education sector is now dominated by businessmen who are selling formal education. Private education vendors active in looting in the suburbs. The in competence of the director private education Sind and the Sind education minister left the system in disarray. The condition of school in Sind is very bad, private school have been set up in dilapidated buildings especially in the suburbs, where even basic facilities are not available to students or children. Parents have lodge written complaints an...

ہوئے مر کے ہم جو رسواء

 کراچی (تحریر: مسعود حسین جعفری) ہوئے مر کے ہم جو رسواء قوم کی آزمائش کا وقت کیا ہوتا ہے یا ہوسکتا ہے اسکا تعین نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی عہدِ حاضر میں ایسی کوئی گھڑی تیار کی گئی ہے مگر زبان اور کاغذات سے بہت کچھ کہہ کر پرانے خوابوں اور باتوں پر نیا رنگ وروغن چڑھانے کی کوشش ضرور کی جاتی ہے کہ ماضی کی طرح خوشنماں معلوم ہو ۔مصورانِ خوش خیال اگر چہ خاموش طبع ہیں مگر روغنیات سے واقفیت رکھتے ہیں بہرکیف اندورنِ خانہ کتنی ہی چپقلش ومنافقت کیوں نہ ہو مگر بیرونی سطح پر مطلع شفاف رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ سابقین کے کئیے دھرے پر دانتوں کی نمائش اور موجودہ کے کارہائے نمایاں پر گل پاشی عہدِ گذشتہ کی زینت بڑھانے کے لئے بہت ہے اگر بات کا آغاز تبدیلی سے ہوا تھا تو تبدیلی کو واضع کرتے ہوئے سابقین کی عادات وفطرات سے کنارہ کشی اختیار کی جانی چاہئے لیکن یہ نہ تو ممکنات میں شامل ہے اور نہ ہی ایسی کو ئی ترجیحات زیرِ غور لانے کا تصور۔ موجودہ صورتحال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے باخوبی سمجھا جاسکتا ہے کہ معاملات کس نہج پر پہنچ چکے ہیں ۔لیکن اس سے پہلے تاریخ کے جھرنکوں سے کچھ ایسی ہوائیں چہرے کو بگاڑ رہی ہیں جس ...

Old

  سیران اقتدار ۔۔۔۔۔ ملک وقوم کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان ایک ایسی فلاحی ریاست ہے جو صرف اور صرف دین اسلام کے نام پر حاصل کی گئ مگر یہاں دین اسلام کا نفاذ قائم نہ ہو سکا صرف چند افراد گروہ یا ادارے ہی حتی الامکان عمل کرنے کی جستجو میں رہتے ہیں لیکن اکثریت اس سے انحراف کرتی دیکھائی دیتی ہے۔ منافقت کی عمدہ مثال تو یہ ہے کہ تبلیغ اور دعوع انتہائ روز و شور سے کئے جاتے ہیں لیکن جب عمل کی باری آتی ہے تو کئ میلون دور تک سوائے بدنامی رسوائی کے کچھ بھی واضح نہیں ہوتا بلکہ ضد ھڈدھرمی کی مثالیں قائم کی جاتی ہیں جس کا مظاہرہ آئے روز ہم دیکھتے ہی رہتے ہیں۔ اگر سیاسی جماعتوں کی بات کی جائے تو کف افسوس ملنے کے کچھ سجائ نہیں دیتا۔ جھوٹ عیاری مکاری کرپشن سودے بازی تباہی مفادپرستی یہ وہ عوامل ہیں جس سے سیاست پروان چڑھائی جاتی ہے۔ دوسری جانب ملوکیت کو سیاست میں لازم و ملزوم قرار دیتے ہوئے اسے ایک گھریلو دائرے میں قید کردیا گیا ہے۔ احمقانہ اجتماع روز ہائے گزشتہ جو کچھ بھی سننے کو ملا اس میں صرف اور صرف ایک ہی بات واضح نظر آتی ہے کہ کچھ مالکان جو کہ ملوکیت کو نصب العین بنائے بی...

داغدار ماضی

خاندانی قبضہ مافیا کا اتفاق و اتحاد اپنے پیروں پر کلہاڑی مارنے کے اثرات سامنے آ چکے ہیں سابقہ حکومت پر جو تنقید کی جارہی تھی آج وہی کار ہائے نمایاں انجام دینے پر مجبور و لاچار زبردستی کے حکمراں دلائل دینے کے لیے رات دن ایک کررہے ہیں۔ راقم الحروف پہلے بھی اس غیر فطری ملوکی اتحاد پر بہت کچھ احاطہ تحریر میں لا چکا ہے جو کچھ روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ اس غیر فطری اتحاد میں جس بات پر اتفاق ہے وہ کرپشن اختیار و اقتدار اپنی نسل کے لیے مخصوص کرنا ہے اور ایسے قراردادیں و قوانین وجود میں لانا ہے جس کی بدولت اپنے خاندان برادری و نسل کو ہر طرح کا تحفظ حاصل ہوسکے۔ اس گھمبیر صورتحال میں نااہل نالائق غیر قانونی اور کے پالک زبردستی کے افراد کسی صورت قابو پانے کی اہلیت نہیں رکھتے اس کی وجہ ان کا داغدار ماضی ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہ تو ملک میں کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی بیرونی دنیا میں کہ ایک طویل مدت تم اقتدار میں رہنے والے صرف اپنی ذات پر توجہ دیتے رہے اور دنیا کی آسائشوں کے حصول کی خاطر ملک و قوم کو لوٹتے رہے بلکہ ظلم بھی ڈھاتے رہے۔ اسے ایک نہ بھلائے جانے والا سانحہ ظلم یا بڑا حادثہ ہی تسلیم کیا جا سکتا ہ...

Bill Gates Note

 Bill Gates Note 24 May  Earlier this year, I made my first trip ever to Pakistan to learn more about the country’s incredible efforts to wipe out polio. Their energy and enthusiasm reminded me of what I saw in India and Nigeria when those countries were traveling the final mile to eliminate polio within their borders. But the last mile is often the toughest. In recent weeks, the world received a sobering reminder of this fact when three new cases of wild poliovirus were detected in Pakistan. Even with the new polio cases, the virus is still circulating at extremely low levels and the world has an historic opportunity to make sure this virus never paralyzes a child again. The fact is, we’ve never been closer to ending polio and it’s critical that the world doesn’t lose sight of this goal. You can learn more about Pakistan’s progress against polio in my  new Gates Notes post  and  video . Thanks so much for being an Insider!

باطل قوتوں کے خلاف جنگ آزادی کا اغاز۔

 باطل قوتوں کے خلاف جنگ آزادی کا اغاز۔ کراچی (تحریر: مسعود حسین جعفری) گزشتہ پچاس برس سے عرض پاک اغیار کے زیر اثر رہا اور جمہوریت کے نام پر ملوکیت و خاندانی آمریت کو سیاست کا نام دیتے ہوئے سجدہ ریز ہونے والے خاندانوں کو اقتدار عطا کر کے ان چند خاندانوں کی بلا شرکت غیرے عبادت کا بھی بھر پور صلا عطا کیا گیا جس کی بنا پر ان چند خاندانوں اور ان کی نسلوں کے لیے اقتدار کے دروازے بلا کسی روک ٹوک ہمیشہ کے لیے کھول دیے گئے۔ کئ دہائیوں سے دیکھتے آرہے ہیں کہ سیاسی خاندانوں کی آمریت کے دوران ملک تباہی کے دھانے پر رہا اور ہمیشہ خطرات میں گھرا رہا مگر سیاسی آمروں کے کان پر جوں تک نہ رینگی صرف زبانی کلامی معملات حل ہوتے رہے ان سیاسی آمروں کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ کوئ طاقت ان کو بھی چیلنج کرنے کی جرات کر سکتی ہے اور وہ بھی عرض پاک کی مظلوم قوم جس کو یہ سیاسی آمر ہمیشہ کچلتے آئے ہیں۔ سیاسی خاندانوں کی آمریت کا سارا کا سارا ظلم وزیادتی و جبر اسی قوم پر رہا جو ان کو اور ان کی نسلوں کو پالنے میں ہمہ وقت خون پسینہ ایک کرتے رہے اور یہ عیاشیاں کرنے میں لگے رہے یا قوم کی خون پسینے کی کمائی کو بیرون...

مکافات عمل

مسعود حسین جعفری مکافات عمل اسی کا نام ہے کہ جو بیج بویا گیا ہے اسی کی کاشت بھی کرنی پڑ رہی ہے قانون قدرت نے اس میں کوئی گنجائش ہی نہیں رکھی کہ مخلوق بیج بیگن کا بوئے اور فصل تربوز کی کاٹے۔ آج زبان سے جو کچھ کہا جارہا ہے وہ مکافات عمل کا ہی حصہ ہے بس فرق اتنا ہے کہ کل کا بدزبان آج کا حمایتی بن چکا ہے جس پر سات خون بھی معاف ہیں۔ مدتوں سے بدزبانی کرنے والوں کو آج اپنے مخالفین کی بدزبانی محسوس ہوئی تو مردہ کفن پھاڑ کر چیخ اٹھا۔ تمام ریکارڈز دیکھے اور سنے جاسکتے ہیں کہ آغاز سے لے کر تادم تحریر تک کون کون سے مرد و زن ہیں جنہوں نے اپنے سروں پر بے ہودگی لاد رکھی ہے زیادہ پرانی بات نہیں صرف اسمبلی کے اجلاس اور ان میں ہونے والی تقاریر ہی سن لی جائیں تو پاکستانی عوام کے سر شرم سے جھک جاتے ہیں۔ دنیا میں جب کبھی پاکستان کی بربادی کی وجوہات پر غور کیا گیا تو یہی گھسی پٹی خاندانی ملوکیت کا نام آیا۔ آج جب ان کو ان ہی کی زبان میں کھل کر جواب مل رہیں ہیں تو پیٹ پھاڑ کر لوٹی ہوئ دولت نکلوانے والوں کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کو بھی تکلیف ہورہی ہے جن کا پیٹ پھاڑا جارہا تھا جن کا گریباں پکڑ کر گوالمنڈی کی سڑکوں...
 فصل کی کاشت کا آغاز تحریر: مسعود حسین جعفری مکافات عمل اسی کا ن کاشت بھی کرنی پڑ رہی ہے قانون قدرت نے اس میں کوئی گنجائش ہی نہیں رکھی کہ مخلوق بیج بیگن کا بوئے اور فصل تربوز کی کاٹے۔ آج زبان سے جو کچھ کہا جارہا ہے وہ مکافات عمل کا ہی حصہ ہے بس فرق اتنا ہے کہ کل کا بدزبان آج کا حمایتی بن چکا ہے جس پر سات خون بھی معاف ہیں۔ مدتوں سے بدزبانی کرنے والوں کو آج اپنے مخالفین کی بدزبانی محسوس ہوئی تو مردہ کفن پھاڑ کر چیخ اٹھا۔ تمام ریکارڈز دیکھے اور سنے جاسکتے ہیں کہ آغاز سے لے کر تادم تحریر تک کون کون سے مرد و زن ہیں جنہوں نے اپنے سروں پر بے ہودگی لاد رکھی ہے زیادہ پرانی بات نہیں صرف اسمبلی کے اجلاس اور ان میں ہونے والی تقاریر ہی سن لی جائیں تو پاکستانی عوام کے سر شرم سے جھک جاتے ہیں۔ دنیا میں جب کبھی پاکستان کی بربادی کی وجوہات پر غور کیا گیا تو یہی گھسی پٹی خاندانی ملوکیت کا نام آیا۔ آج جب ان کو ان ہی کی زبان میں کھل کر جواب مل رہیں ہیں تو پیٹ پھاڑ کر لوٹی ہوئ دولت نکلوانے والوں کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کو بھی تکلیف ہورہی ہے جن کا پیٹ پھاڑا جارہا تھا جن کا گریباں پکڑ کر گوالمنڈی کی سڑکوں پ...

وہی پرانے ڈائیلاگ

 کراچی (تحریر: مسعود حسین جعفری) وہی پرانے گھسے پٹے ڈائیلاگ بزرگوں نے نصیحت آمیز انداز اختیار کرتے ہوئے ہمیشہ ایک خصوصی نصیحت فرمائی کہ آسمان کی جانب تھوکنے سے اپنے ہی چہرے پر تھوک گرتا ہے پہلے پہل یہ نصیحتیں سمجھ نہیں آتی تھیں کہ بھلا کسی کو کیا ضرورت پڑی ہے کہ آسمان کی جانب منہ کرکے تھوکے لیکن گزشتہ ایک ماہ سے اس نصیحت کا مفہوم سمجھ آنے لگا۔ عرض پاک کے سلسلہ میں جو اوٹ پٹانگ قسم کے بیانات تقاریر اور دعوے ہم سنتے اور دیکھتے آئے بلکہ یوں کہیں کہ جب بھی کسی خاندانی آمر نے جوڑ توڑ کر کے اقتدار حاصل کیا تو اس کے بات ہر بگاڑ اور تباہی بربادی کا زمہ دار سابقہ سیاسی آمر کو ٹھہرایا۔ ہم زیادہ دور نہیں جاتے ہیں اور 2008 کی ڈیل جوڑ توڑ سے اقتدار حاصل کرنے والے سیاسی آمروں سے ہی آغاز کریں تو سارے رٹے رٹائے ڈائیلاگ سامنے آجائیں گے جس کا تذکرہ گزشتہ ایک ماہ سے تادم تحریر مسلسل کیا جارہا ہے۔ اب حسب ضابطہ حسب روایت اور حسب خاندانی آمرانہ منصوبہ بندی مسلسل سابقین کی غلطیوں کو دھرا کر عوام کے سامنے لایا جارہا ہے تو یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سابقین کی غلطیوں کا پرچار کر کے موجودہ زبردستی کے سیاسی...
 کراچی (تحریر: مسعود حسین جعفری) وہی پرانے گھسے پٹے ڈائیلاگ بزرگوں نے نصیحت آمیز انداز اختیار کرتے ہوئے ہمیشہ ایک خصوصی نصیحت فرمائی کہ آسمان کی جانب تھوکنے سے اپنے ہی چہرے پر تھوک گرتا ہے پہلے پہل یہ نصیحتیں سمجھ نہیں آتی تھیں کہ بھلا کسی کو کیا ضرورت پڑی ہے کہ آسمان کی جانب منہ کرکے تھوکے لیکن گزشتہ ایک ماہ سے اس نصیحت کا مفہوم سمجھ آنے لگا۔ عرض پاک کے سلسلہ میں جو اوٹ پٹانگ قسم کے بیانات تقاریر اور دعوے ہم سنتے اور دیکھتے آئے بلکہ یوں کہیں کہ جب بھی کسی خاندانی آمر نے جوڑ توڑ کر کے اقتدار حاصل کیا تو اس کے بات ہر بگاڑ اور تباہی بربادی کا زمہ دار سابقہ سیاسی آمر کو ٹھہرایا۔ ہم زیادہ دور نہیں جاتے ہیں اور 2008 کی ڈیل جوڑ توڑ سے اقتدار حاصل کرنے والے سیاسی آمروں سے ہی آغاز کریں تو سارے رٹے رٹائے ڈائیلاگ سامنے آجائیں گے جس کا تذکرہ گزشتہ ایک ماہ سے تادم تحریر مسلسل کیا جارہا ہے۔ اب حسب ضابطہ حسب روایت اور حسب خاندانی آمرانہ منصوبہ بندی مسلسل سابقین کی غلطیوں کو دھرا کر عوام کے سامنے لایا جارہا ہے تو یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سابقین کی غلطیوں کا پرچار کر کے موجودہ زبردستی کے سیاسی...

شہر قائد

ناکامی کا ناسور بری طرح پھیل چکا ہے۔ شہر قائد پچھلے 14 برس سے مصیبتوں میں گھرا تباہ شدہ شہر بنادیا گیا۔ شہر قائد میں دہشتگردی سندھ حکومت کی کوتاہی و نااہلی کا کھلا ثبوت ہے۔ پچھلے 14 برس سے سندھ میں خاندانی آمریت ایک بھیانک لاعلاج موذی مرض کی طرح پھیل چکی ہے جس کا سد باب بظاہر دیکھائی نہیں دیتا یہ سیاسی آمریت اس زہر کی علامت ہے جو تباہی کے سوا کچھ فراہم کرنے سے قاصر و عاری ہے۔ نااہلی کا اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہوگا کہ اتنی طویل مدت تک قابض رہنے کے باوجود عوام بنیادی اشیاء سے محروم کر دیے گئے ناکام ترین افراد جو قانون کو مختلف جرائم میں مطلوب ہیں ان کے جرائم کی پردہ پوشی کرتے ہوئے انہیں وزارتیں فراہم کی جارہی ہیں۔ اگر سوال کیا جائے کہ سندھ حکومت کے ماتحت کوئ بھی ادارہ اپنی کارکردگی پیش کرے تو صد فیصد قوی امید کی جاسکتی ہے کہ زرداری لیگ کے نمک خوار بغلیں جھانکنے کے سوا کچھ نہیں کر سکیں گے یا بات کرنے سے گریز کریں گے کیوں کہ انہیں معلوم ہے کہ صفر کارکردگی پر بھی ان کے آقا انہیں نوازتے رہیں گے۔ شہر قائد میں اس وقت مافیاز سب سے زیادہ طاقت میں دکھائی دیتی ہیں جس گلی جس محلے جس سڑک پر جائیں ...

مافیاز

 ایڈمنسٹریٹر ہوں یا انتظامیہ کی خاموشی اور جرائم کی پردہ پوشی سے نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے۔ ہر طرف مافیاز کا راج جو دیدہ دلیری سے عوامی خون چوسنے میں مصروف ہیں۔   11 اپریل سے اب تک ملک و قوم بحران کا شکار ہیں ان تمام بحرانوں کا براہ راست اثر عوام پر بھیانک انداز میں پڑا ہے جس کا ازالہ بظاہر دیکھائی نہیں دیتا کوئ طاقت سے ٹکرا کر پریشان ہے تو کوئ سجدہ ریز ہوکر منہ چھپاتا پھر رہا ہے۔ ان تمام پریشانیوں کا باعث بننے والے عناصر اقتدار کی بھوک میں ملک و ملت کے درد کا مداوا کرنے سے مسلسل قاصر رہے ہیں ماضی میں جوڑ توڑ اور خرید وفروخت کرنے والے اور ان کے سہولت کار اب اپنی نسلوں کو اقتدار کی اعلیٰ مسند پر دیکھنے کے لیے بے چین اور اس سلسلے میں کوئ بھی طریقہ اختیار کرنے کے لیے تیار بھی۔ ملک جب بھی بحرانوں کا شکار ہوتا ہے تو اس کی سب سے بڑی وجہ وہ سیاسی جماعتیں ہوتی ہیں جو صرف ایک ہی خاندان کے زیر اثر ہوں اور جس میں تمام تر طاقت اہل خانہ کو حاصل ہو ماضی سے لے کر اب تک کی صورتحال ہمارے سامنے ہے۔ ان خاندانوں کی پرورش کرنے کے لیے ملک کے ایسے خطے پر نظر رکھی جاتی ہے جس کی آمدنی اچھی ہ...

سیاست سے نابلد خاندان

 ہمارے سامنے سیاسی تواریخ کا ایک انبار دھرا ہے جس کی بدولت ہم سیاسی جماعتوں کی کارستانیاں کہیں کھلے الفاظ میں پڑھتے ہیں تو کہیں مبہم تحریر میں لیکن تمام تر تباہیاں گھٹیا ذاتی مفادات اور خاندانی آمریت کے گرد گھومتی نظر آتی ہیں جس کے عقب میں کوئ نظریہ جو ملک و ملت کے مفادات کی عکاسی کرتا ہو دیکھائی نہیں پڑتا اس کی خاص وجہ جو تحقیق کے بعد سامنے آتی ہے وہ خاندانی ملوکیت ہے جسے ہم ایک ایسی آمریت یا بادشاہت بھی کہہ سکتے ہیں جو ایک ہی خاندان کا طواف کرتی ہیں تمام تر قابلیت صلاحیت طاقت اور رعایت کا مرکز ایک ہی خاندان ہوتا ہے۔ اس طرح کی آمریت سے تاریخ بھری پڑی ہےاور اس کے مضر اثرات یعنی اپنی ذات کو مستحکم بنانے کے لیے عوامی خون سے حاصل کردہ آسائشیں اپنے خاندان کے لیے سہولیات کا حصول ہمیشہ مقدم رکھا گیا۔ موجودہ صورتحال میں جو کچھ تباہی نظر آرہی ہے وہ آج کی پیدا کردہ نہیں ہے یہ چند خاندانوں کی ملی بھگت کی وجہ سے پیدا ہوئ ۔کہاں کہاں کیا کیا کہا گیا وہ سب منافقت کی کھلی عکاسی کرتا ہے اس بربادی میں ایسے گروہ کا بھی ساتھ رہا جو راز دار بن گئے مجبوراً بہتی گنگا میں ان چھوٹے گروہوں کو بھی کم از کم ...

14 برس کی آمریت

تحریر: مسعود حسین جعفری وفاق اور سندھ حکومت کی مسلسل نااہلی ناانصافی اور ناکامی کا ناسور بری طرح پھیل چکا ہے۔ شہر قائد پچھلے 14 برس سے مصیبتوں میں گھرا تباہ شدہ شہر بنادیا گیا۔ شہر قائد میں دہشتگردی سندھ حکومت کی کوتاہی و نااہلی کا کھلا ثبوت ہے۔ پچھلے 14 برس سے سندھ میں خاندانی آمریت ایک بھیانک لاعلاج موذی مرض کی طرح پھیل چکی ہے جس کا سد باب بظاہر دیکھائی نہیں دیتا یہ سیاسی آمریت اس زہر کی علامت ہے جو تباہی کے سوا کچھ فراہم کرنے سے قاصر و عاری ہے۔ نااہلی کا اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہوگا کہ اتنی طویل مدت تک قابض رہنے کے باوجود عوام بنیادی اشیاء سے محروم کر دیے گئے ناکام ترین افراد جو قانون کو مختلف جرائم میں مطلوب ہیں ان کے جرائم کی پردہ پوشی کرتے ہوئے انہیں وزارتیں فراہم کی جارہی ہیں۔ اگر سوال کیا جائے کہ سندھ حکومت کے ماتحت کوئ بھی ادارہ اپنی کارکردگی پیش کرے تو صد فیصد قوی امید کی جاسکتی ہے کہ زرداری لیگ کے نمک خوار بغلیں جھانکنے کے سوا کچھ نہیں کر سکیں گے یا بات کرنے سے گریز کریں گے کیوں کہ انہیں معلوم ہے کہ صفر کارکردگی پر بھی ان کے آقا انہیں نوازتے رہیں گے۔ شہر قائد میں اس وقت ما...

Extremism in politics

 Extremes in Religion and Politics Prejudice is on the rise in human society. It contains various elements. The extent to which things have deteriorated in Pakistani society in the current situation and who can be held responsible is a matter of debate. Actually, prejudice and Discrimination or pursuit of privileged status are a menace to human society and humanity. There is no religion in the world that allows such supertitions. In religion of Islam, however, these supertitions have been viewed with the utmost hatred and strongly uploaded. But unfortunately, in the Islamic world, new methods are being used to maintain the status quo. Pakistan is also full of such people. This can be attributed to poor education training ignoranc, some effects include home training. Because in human society what adults want to teach a child they themselves don't follow these principles. Attempts were made to misinterpret Islamic teaching, which made matters worse and added an element of extremism. ...

سفاکانہ ملکیت

 سندھ کی بارہ برس کی سفکانہ آمریت کا ایک اور ملوکیت سے بھرپور وار۔ کراچی(مسعود حسین جعفری) صوبہ سندھ پر بارہ برس سے قابض ملوکیت بھرپور انداز سے انتہائ سفاکانہ وار کرنے میں مصروف ہے۔ جس کا مظاہرہ آج ملوکیت کے اجتماع کے دوران گھر بیٹھے زبردستی کے بنائے جانے والے نام نہاد رہبر کی رونمائی بھی ہے۔ پاکستانی قوم اس نام نہاد اور زبردستی کی ملوکیت سے ایک مدت سے نمبرد آزما رہی ہے مگر اس ملوکیت کی جڑیں شاید بہت زیادہ مضبوط ہیں جس کی روک تھام ممکن نہیں اور نہ ہی جمہوریت کو پنپنے دیا گیا کہ کسی طرح اس ملوکیت کا خاتمہ کیا جا سکے۔ قوم سابقہ ملوکیت گھریلو سیاست کے بیچ سے ہی بیزار تھی کہ اس گھریلو ملوکیت کو مزید فروغ دینے کے لئے زبردستی کا بوجھ مزید بڑھادیا گیا۔ جمہوریت کا قتل عام بالکل اس طرح کیا جاتا رہا جیسے پاکستان بھی کسی عرب ریاست کی بادشاہت کا حصہ ہو۔ اس ملوکی گروہ میں شاید قابلیت کا فقدان ہوتا ہے۔ گھر کی کسی بھی عورت مرد کو زبردستی عوام کی چھاتی پر مونگ دلنے کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے قومی خزانے پر الگ بوجھ پڑتا ہے۔ عوام کی بے بسی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ لوگ محض دیہاڑی لگانے کی ...

اقتدار کی ہوس میں

 اسیران اقتدار ۔۔۔۔۔ ملک وقوم کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان ایک ایسی فلاحی ریاست ہے جو صرف اور صرف دین اسلام کے نام پر حاصل کی گئ مگر یہاں دین اسلام کا نفاذ قائم نہ ہو سکا صرف چند افراد گروہ یا ادارے ہی حتی الامکان عمل کرنے کی جستجو میں رہتے ہیں لیکن اکثریت اس سے انحراف کرتی دیکھائی دیتی ہے۔ منافقت کی عمدہ مثال تو یہ ہے کہ تبلیغ اور دعوع انتہائ روز و شور سے کئے جاتے ہیں لیکن جب عمل کی باری آتی ہے تو کئ میلون دور تک سوائے بدنامی رسوائی کے کچھ بھی واضح نہیں ہوتا بلکہ ضد ھڈدھرمی کی مثالیں قائم کی جاتی ہیں جس کا مظاہرہ آئے روز ہم دیکھتے ہی رہتے ہیں۔ اگر سیاسی جماعتوں کی بات کی جائے تو کف افسوس ملنے کے کچھ سجائ نہیں دیتا۔ جھوٹ عیاری مکاری کرپشن سودے بازی تباہی مفادپرستی یہ وہ عوامل ہیں جس سے سیاست پروان چڑھائی جاتی ہے۔ دوسری جانب ملوکیت کو سیاست میں لازم و ملزوم قرار دیتے ہوئے اسے ایک گھریلو دائرے میں قید کردیا گیا ہے۔ احمقانہ اجتماع روز ہائے گزشتہ جو کچھ بھی سننے کو ملا اس میں صرف اور صرف ایک ہی بات واضح نظر آتی ہے کہ کچھ مالکان جو کہ ملوکیت کو نصب العین بنائے بی...

دشمن کی کاروائیاں مزید بڑھ گئیں

  دشمن بلوچستان کے حصول کے لئے ایک مدت سے برسرپیکار ہے۔ مدت سے بلوچستان کو سورش سے بچانے کی کوششیں اب تک جاری ہیں۔ ساری محنت پر پانی پھیرنے کے لئے اندرونی دشمنوں کی کاروائیاں۔ اندرونی دشمن معصوم لوگوں کو ورغلانے کی کوشش ضرور کریں گے۔ آزادی یا علیحدگی کا نعرہ بھی لگوایا جاسکتا ہے۔ غلیظ دشمنوں کی فنڈنگ سے اندرونی دشمن خریدے گئے بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی کے ایجنٹ نے پہلے ہی انکشاف کیا تھا۔ کراچی(تجزیہ: مسعود حسین جعفری)کراچی میں دشمن کافی حد تک ناکام رہے جس کا کریڈٹ خفیہ اداروں کو جاتا ہے جو دن رات اپنے فرائض کی انجام دہی میں مصروف رہے اور شہریوں کو دہشتگردوں سے محفوظ کرتے گئے۔ مگر افسوس اندرونی دشمن پھر بھی سازشوں سے باز نہ ائے۔ اب بلوچستان میں خطرات بڑھ چکے ہیں۔دشمن جو ایک طویل مدت سے بلوچستان میں شورش کا باعث بن رہا تھا اب اس میں مزید شدت آگئ ہے۔دشمن بلوچستان کے حصول کے لئے ایک مدت سے برسرپیکار ہے۔ مدت سے بلوچستان کو سورش سے بچانے کی کوششیں اب تک جاری ہیں۔ ساری محنت پر پانی پھیرنے کے لئے اندرونی دشمنوں کی کاروائیاں۔اندرونی دشمن معصوم لوگوں کو ورغلانے کی کوشش ضرور کریں گے۔ آزادی یا عل...